Thursday, 3 November 2016

چوہدری نثارنے ہی وزیراعظم پر سنگین الزام عائد کر دیا

             چوہدری نثارنے ہی وزیراعظم پر سنگین الزام عائد کر دیا
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پولیس اور ایف سی اہلکاروں سے اپنے خطاب میں نواز شریف پر سنگین الزام لگا دیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پولیس لائن میں ایف سی اور پولیس اہلکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے جب سے وکلاء کی جدوجہد شروع ہوئی اس دن سے لے کر اب یہ تماشا دنیا دیکھتی تھی کہ ڈنڈا مظاہرین پیچھے پیچھے ہوتے تھےا ور پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکار آگے آگے بھاگ رہے ہوتےتھے اور اس طرح ریاست کی عملداری چیلنج ہوتی تھی مگر آج پہلی دفعہ ہم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عملداری کو یقینی بنایا ہے اور اس بات کو ثابت کیا ہے کہ کوئی بھی ہو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچ نہیں سکتا۔تفصیلات کے مطابق پولیس لائن میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے احتجاجی سیاست اور دھرنوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کا بے حد شکر گزار ہوں جنہوں نے قانون کی عملداری کو یقینی بنایا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکلاء جدوجہد سے اب تک دنیا ہمیشہ یہ دیکھتی تھی کہ ڈنڈا بردار مظاہرین نے پولیس والوں کو آگے لگایا ہوتا تھا جس سے دنیا بھر میں ملک کی بے عزتی ہوتی تھی ۔ اس طرح انہوں نے براہ راست نواز شریف پر ہی ایک سنگین الزام عائد کر دیا ہے کیونکہ وکلاء تحریک کی قیادت میاں محمد نواز شریف نے ہی کی تھی اور وکلاء کے ساتھ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی کیا تھا جس کے بعد اس وقت کی حکومت نے چیف جسٹس کو بحال کر دیا تھا۔ چوہدری نثار علی خان کے اس بیان سے نواز شریف پر واضح الزام جا رہا ہے کہ انہوں نے حکومتی سیکیورٹی اداروں کے خلاف تشدد کا آغاز کیا ہے اور انہوں نے حکومتی انتظامی اداروں کے خلاف پر تشدد مظاہروں کا آغاز کیا تھا جسے کئی برس بعد اب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس روایت کو ختم کر دیا ہے اور اب کوئی بھی مسلح جتھوں کے ساتھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباؤ نہیں ڈال سکتا ۔
loading...

داستان ایک متکبر کی

داستان ایک متکبر کی

                                               

                                             داستان ایک متکبر کی

اس کا نام جبلہ بن الایہم تھا ۔ وہ غسان کا بادشاہ تھا...... اس کے دل میں ایمان کی شمع جگمگا اٹھی۔ اس نے اسلام کے بارے میں سنا، اس پر غور و فکر کیا، پھر اسلام قبول کر لیا۔ یہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور کی بات ہے۔ مسلمانوں کو اس کے اسلام لانے کی خبر ملی تو بہت خوش ہوئے۔ جبلہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ وہ مدینہ طیبہ آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ اسے اجازت دے دی گئی کہ تم مدینہ طیبہ آ سکتے ہو، "تمھارے لیے وہی کچھ ہے جو ہمارے لیے ہے اور تم پر وہی کچھ واجب ہے جو ہم پر واجب ہے۔" جبلہ غسان سے روانہ ہوا، اس کے جلو میں پانچ سو گھڑسوار تھے۔ وہ مدینہ کے قریب پہنچا تو اس نے شاہی لباس پہنا جس کے دامن پر سونے کی دھاریاں تھیں، پھر اس نے ہیروں اور جواہرات سے مرصع تاج سر پر رکھا۔ اس کے گھڑسواروں نے بھی بہترین لباس پہنے۔ جب وہ مدینہ میں داخل ہوا تو اہل مدینہ یہ منظر دیکھنے کے لیے باہر نکل آئے۔ جب وہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے اس کی عزت افزائی کی، اس کا پرتپاک استقبال کیا اور اپنے پاس ٹھہرایا۔ اسی دوران حج کے دن آ گئے۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ حج کے لیے روانہ ہوئے، جبلہ بھی ان کے ساتھ تھا۔ جبلہ نے بیت الله شریف کا طواف شروع کیا۔ بنو فزارہ کا ایک مسکین شخص طواف کر رہا تھا کہ اتفاق سے اس کا پائوں جبلہ کی چادر پر آ گیا۔ جبلہ کو بڑا غصہ آیا۔ اس نے اسے ایسا زوردار تھپڑ مارا کہ اس کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ فزاری کو بھی سخت غصہ آیا مگر وہ جوابی کاروائی نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے فورا اپنا مقدمہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش کر دیا۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جبلہ کو بلوایا اور جواب طلبی کی کہ تم نے دوران طواف اپنے مسلمان بھائی کو تھپڑ کیوں مارا؟ تم نے تو تھپڑ رسید کر کے اس کی ناک ہی توڑ ڈالی۔ آخر تم نے ایسا کیوں کیا؟ جبلہ نے بڑے غرور سے کہا کہ اس نے میری چادر کو اپنے پیروں سے مسل دیا، اسکی یہ مجال! اگر مجھے مقدس گھر کی حرمت اور عزت کی پرواہ نہ ہوتی تو میں اسکی گردن اڑا دیتا۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جبلہ! تم نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا ہے کہ واقعی تم نے اسے تھپڑ مارا ہے، اب تمہاری نجات کے لیے ایک ہی حل ہے کہ کسی طریقے سے اسے راضی کرو ورنہ....... جبلہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا تھا کہ اس سے بھی بدلہ لیا جا سکتا ہے۔ اس نے فورا پوچھا: ورنہ کیا ہوگا؟ ارشاد ہوا کہ اس فزاری سے کہا جائے گا کہ وہ آگے بڑھے اور تمھارے منہ پر ویسا ہی تھپڑ مار کر اپنا بدلہ لے لے! جبلہ کہنے لگا: اچھا! تو کیا وہ مجھ سے بدلہ لے گا؟ .... میں ایک بادشاہ ہوں اور وہ ایک ادنٰی سا بے حیثیت آدمی! فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: اسلام نے سب کو برابر کے حقوق دیے ہیں۔ تم اور فزاری دونوں برابر ہو۔ اسلام کی نظر میں صرف وہی شخص افضل و اعلیٰ ہے جو تقویٰ کے لحاظ سے بہتر ہے۔[سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف] جبلہ کو اس قسم کے مساوی سلوک کا وہم و گمان بھی نہ تھا ۔ اس نے کہا کہ میں اس صورت میں دوبارہ عیسائی بن جاتا ہوں۔ ارشاد ہوا: جو شخص اپنے دین، یعنی اسلام سے پھر جائے، اسلام کی رو سے اسکی سزا موت ہے۔ جبلہ کہنے لگا : امیر المومنین اس صورت حال پر غور کرنے کے لیے مجھے کل تک کی مہلت عطا فرمائیں۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے مہلت دے دی۔ رات کا کچھ حصہ گزرا تو جبلہ اپنے ہمرائیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ سے نکل بھاگا۔۔ وہ قسطنطنیہ پہنچا جہاں اس نے دوبارہ عیسائیت قبول کر لی۔ زمانہ بیت گیا..... اسکی جوانی کا رنگ اڑ گیا... نقوش ماند پڑ گئے، شان و شوکت دھندلا گئی۔ اسے اسلام کے ایام یاد آ گئے۔ نماز اور روزے کی لذت بیدار ہونے لگی... اسے اسلام چھوڑنے پر ندامت ہوئی .... زیادہ ندامت اس بات پر ہوئی کہ میں اسلام میں داخل ہونے کے بعد دوبارہ مشرک ہو گیا۔ اس إحساس کے باوجود وہ آخری عمر تک عیسائیت پر قائم رہا۔ اس نے آخری عمر میں کچھ اشعار کہے جن کا مفہوم یہ ہے: "شریف خاندان کے ایک چشم و چراغ نے ایک تھپڑ کے بدلے تھپڑ کھانے میں سبکی محسوس کی جس کی وجہ سے اسلام سے برگشتہ ہو کر عیسائی بن گیا، حالانکہ تھوڑا سا صبر کر لینے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ کاش! میری ماں نے مجھے جنا ہی نہ ہوتا، کاش! میں عمر رضی اللہ عنہ کی بات مان لیتا۔ کاش! شام میں میری معیشت کا ادنٰی سا سامان بھی ہوتا تو میں اپنی قوم کے افراد کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا۔ اب تو میری سماعت بھی ختم ہو رہی ہے اور بصارت بھی۔ مگر اس احساس کے باوجود اس نے توبہ کر کے دوبارہ اسلام قبول نہیں کیا۔ اسے شرک اور کفر ہی کی حالت میں موت آئی۔ الاستقصا لاخبار دول المغرب الاقصى / احمد بن خالد الناصري 83/1 سنہرے نقوش: 332 Like us on Facebook

Monday, 31 October 2016

مکہ مکرمہ پر میزائل حملہ کس ایرانی شخصیت کے حکم پر کیا گیا؟

مکہ مکرمہ پر میزائل حملہ کس ایرانی شخصیت کے حکم پر کیا گیا؟ مکہ مکرمہ پر میزائل حملہ کس ایرانی شخصیت کے حکم پر کیا گیا؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کی اپوزیشن کی جلا وطن رہ نما اور قومی مزاحمتی کونسل کی چیئرپرسن مریم رجوی نے یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے مکہ معظمہ پر میزائل حملے کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ایران نواز حوثیوں نے میزائل حملہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حکم پر کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق اپنے ایک بیان میں مریم رجوی نے کہا کہ یمن سے مکہ کی طرف میزائل “القدس فورس” نامی تنظیم کی نگرانی میں داغا گیا جسے براہ راست ایران کی سرپرستی حاصل ہے۔ انہوں نے مکہ معظمہ پر میزائل حملے کو عالم اسلام کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا۔مریم رجوی نے اپنے بیان میں ایرانی رجیم کو ایک بار پھر مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں مسلط نظام نہ تو انسانی ہے اور نہ اسلامی ہے۔ ایران کو اسلامی تعاون تنظیم کی رکنیت سے نکال باہر کیا جائے اور پوری اسلامی دنیا ایران کے بائیکاٹ کا اعلان کرے۔اپوزیشن رہ نما کا کہنا تھا کہ ایران ماضی میں بھی بیت اللہ اور مسجد حرام کے خلاف سازشوں کا مرتکب ہوتا رہا ہے۔ سنہ 1986ء میں ایران نے مکہ معظمہ میں دہشت گردی کے لیے دھماکہ خیز مواد وہاں پہنچایا اور سنہ 1987ء میں حج کے موقع پر بگدڑ کی سازش ایران کی طرف سے کی گئی تھی جس میں 400 حجاج جاں بحق ہوگئے تھے۔خیال رہے کہ حال ہی میں یمن میں حکومت کے خلاف سرگرم حوثی باغیوں نے مکہ معظمہ پر ایک بیلسٹک میزائل داغا تھا جسے سعودی محکمہ دفاع کے میزائل شکن نظام نے فضا میں ہی میں مار گرایا۔ اس میزائل حملے پر عالم اسلام کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔


سعودی عرب میں بم دھماکے کاخطرناک منصوبہ|سعودی عرب بڑا اعلان کر دیا

                                         

سعودی عرب میں بم دھماکے کاخطرناک منصوبہ، دہشت گردوں کا تعلق کس ملک سے نکلا؟ سعودی عرب بڑا اعلان کر دیا
ریاض(آئی این پی )سعودی عرب میں کار بم دھماکے سے اسٹیڈیم کو اڑانے کی کوشش کو ناکام بنادیا گیا ، سعودی وزارت داخلہ کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سازش میں 2 پاکستانیوں سمیت 8مبینہ دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہیکہ دہشتگرد تین ہفتے پہلے جدہ کے اسٹیڈیم کو کار بم دھماکے سے اڑانا چاہتے تھے، لیکن سعودی عرب کی فورسز نے بارودی مواد سے بھری کار پکڑ کر جدہ کو بڑی تباہی سے بچادیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق کار بم دھماکے کی سازش میں دو پاکستانی، ایک سوڈانی اور شام کا ایک شہری شامل ہے۔ دہشت گردوں کے ایک سیل نے11 اکتوبر کو جدہ کے الجواراہ اسٹیڈیم میں ہونے والے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان فٹبال میچ کے دوران بم دھماکاکرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔خبر ایجنسی کے مطابق دہشتگردی میں داعش کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملے ہیں۔وزارت داخلہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ گرفتار کیے جانے والے دوسرے سیل کے دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی اورانھیں شام میں موجو دداعش کے رہنما کی جانب سے ہدایات دی جارہی تھیں۔ مذکورہ سیل کے تمام افرادکاتعلق سعودی عرب سے ہے اور انھیں ریاض کے شمال مغربی علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ بیان میں دعوی کیا گیا کہ گرفتار افراد نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔

Friday, 28 October 2016

دنیاکی خطرناک ترین سڑک پرپاکستانی شہری نے ایساریکارڈبناڈالاکہ نئی تاریخ رقم ہوگئی ،جان کرآپ بھی خوش ہوجائینگے


دنیاکی خطرناک ترین  سڑک پرپاکستانی شہری نے ایساریکارڈبناڈالاکہ نئی تاریخ رقم ہوگئی ،جان کرآپ بھی خوش ہوجائینگے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) صوبہ گلگت بلتستان کے ایک ڈرائیورنے ایک نیاریکارڈقائم کرکے دنیاکوحیران کردیا۔تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان کے ایک شہری نے ایسی سڑک پر 60کلومیٹر ریورس گاڑی چلا کر ریکارڈ قائم کر ڈالا ہے جس پر کوئی شخص سیدھی گاڑی چلاتے ہوئے بھی سو بار سوچے گا۔ایک پاکستانی اخبار رپورٹ کے مطابق مرزا امان نامی اس شخص نے تپوپڈن سے شمشال تک 60کلومیٹر کا فاصلہ ساڑھے چار گھنٹے میں طے کیا۔ یہ سڑک دنیا کی بلند ترین سڑک ہے اور پہاڑوں کو کاٹ کر بنائی گئی ہے۔اس پرخطر سڑک کو دنیا کے آٹھ عجوبوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس انتہائی تنگ سڑک کے ایک طرف پہاڑ اور دوسری طرف سینکڑوں فٹ نیچے دریائے شمشال ہے۔ دنیا کی بلند ترین سڑک شمشال روڈ کودنیا کی خطرناک ترین سڑک بھی کہا جاتا ہے اور اس پر گاڑی چلانے والے ڈرائیور انتہائی ماہر ہوتے ہیں مگر وہ پھر بھی انتہائی احتیاط کے ساتھ گاڑی چلاتے ہیں۔ لیکن مرزا امان نے اس راستے پر گاڑی ریورس چلاتے ہوئے طے کرکے کمال ہمت کا مظاہرہ کیا ہے۔اب مطالبہ سامنے آیاہے کہ مرزاامان کانام گینزبک آف دی ریکارڈمیں شامل کیاجائے ۔

emotional poetry in urdu.....by a kid